ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اُڈپی ضلع مسلم وکوٹا کے مسلم متحدہ اجلاس میں مفکرین و ماہرین کے پرمغز خطاب : اسلام ایک نظریاتی سوپر پاور ہے اس کو شکست دینا ناممکن

اُڈپی ضلع مسلم وکوٹا کے مسلم متحدہ اجلاس میں مفکرین و ماہرین کے پرمغز خطاب : اسلام ایک نظریاتی سوپر پاور ہے اس کو شکست دینا ناممکن

Mon, 05 Mar 2018 22:45:28    S.O. News Service

اُڈپی:5/ مارچ (ایس اؤنیوز)مسلمانوں کو جنگ کے میدان میں ، صنعت کاری کے میدان میں ، معیشت کے میدان ہوسکتاہے دنیا ہرا دے ۔ مگر فکری ونظریاتی بنیادوں پر اسلام اور مسلمانوں کو شکست دینا ناممکن ہے۔ دراصل آج جن حالات کو ہم سنگین اور پریشان کہہ رہے ہیں وہ درحقیقت ساری دنیا میں اسلام ایک نظریاتی قوت بن کر ابھرنے کا نتیجہ ہے ، دنیا نظریاتی طورپر مات کھا جاتی ہے تو وہ مشتعل ہوکر ڈرانے ، دھمکانے ، ظلم وستم کا راستہ اپناتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے کیا۔

وہ یہاں اُڈپی کے گاندھی میدان میں ضلع مسلم وکوٹا کے زیراہتمام منعقدہ مسلم متحدہ اجلاس میں شریک ہوکر خطاب کررہے تھے۔ موصوف نے کہاکہ اس وقت ساری دنیا میں اسلام ایک نظریاتی سوپر پاور بن چکا ہے، اسلام کے اصول ،اس کی قدریں ساری دنیا کو متوجہ کررہی ہیں، اس کے برعکس دنیا کا خاندانی نظام تباہی کے درپے ہے، دنیا نے عورت کو ذلیل و رسوا کیا جس کا نتیجہ ہورہاہے کہ دنیا کی عورتیں اسلام کی طرف امید کی نظروں سے دیکھ رہی ہیں،کیونکہ اسلام نے عورت کو تقدس و احترام کامقام بخشا ہے۔اسی طرح دنیا کی معیشت تباہ وبربادی کی طرف گامزن ہےدنیا معاشی بحران سے گزررہی ہے ان سب وجوہات کی بنا پر کئی ماہرین اسلام کے معاشی نظام کی طرف متوجہ ہورہے ہیں ، یہ حالات ثابت کرتے ہیں کہ رات کے بعد صبح کا طلوع ہونا لازمی ہے۔

مسلمانوں کے پاس اس ملک کو دینے کے لئے بہت ہی بیش بہا قیمتی تحفہ ہے ،دنیا میں اس سے زیادہ کوئی قیمتی تحفہ نہیں ہوسکتا،ضرورت ہے کہ اس کو مسلمان ملک کے ہرانسان کے سامنے پیش کریں۔ مسلمانوں کی اصل طاقت اسلام ہے۔اس میں دلوں ودماغوں کو مسخر کرنے کی طاقت ہے۔ دنیا کےلٹیروں ، غاصبوں کے شیطانی منصوبوں کو خاک میں ملانےکی طاقت ہے۔ موصوف نے اتحاد کیوں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اتحاد قلعے فتح کرنے کے لئے نہیں بلکہ دل و دماغ کوفتح کرناہے۔ہمارا اتحاد بااعتماد ہو،متحد ہوکر ملک کے سامنے دعوت پیش کریں تو ہر کوئی سنتاہے۔ انہوں نے ملت کی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھرمیں بلین سے زائد مسلمان ہیں دنیا کی اتنی بڑی آباد ی اسلام کے 95فی صد باتوں پر اتفاق کرتی ہے تویہ ایک سب سے بڑا معجزہ اور بہت بڑی طاقت ہے، اسی طاقت کو بروئے کار لاکر مثبت و تعمیری کام انجام دیجئے۔انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ انتشار مصنوعی چیز ہے،اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے ،اس پر توجہ نہ دیں۔ اتحاد سے سازشیں ناکام ہونے کی بات کہی۔ انہوں نے اُڈپی کے مسلم متحدہ اجلاس کوایک تاریخی اجلاس قرار دیتے ہوئے کہاکہ تمام مسالک ،مکاتب، جماعتوں کی کہکشاں یہاں موجود ہے یہاں مختلف الفکر نوجوان جس طرح کانفرنس کےا نتظام میں کندھے سے کندھا ملاکر کام کیا ہےوہ خوش آئند بات ہے اور خوش نما منظر کوپیش کرتاہے ۔

ریاست کرناٹکا کے مشہور و معروف کنڑا روزنامہ ’’وارتابھارتی ‘‘ کے مدیر اعلیٰ عبدالسلام پتگےنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بنیادی طورپر تمام انسان ایک ہی خاندان کے ہیں۔ نفرت، دشمنی ، عدم رواداری ، حسد مسلمانوں کی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی انہیں یہ پسندہیں۔ اگرمسلمان اپنی بنیادوں سے واقف ہوتے ہیں توپھر ان خرابیوں میں مبتلا نہیں ہونگے۔ انہوں نے دوسروں کی نقالی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہم تنگ ظرفی وغیرہ کو دوسروں سے لے کر اپنا رہے ہیں، دوسرے کچھ بھی کریں لیکن ہم اپنی وسیع بنیادوں سے منہ نہ موڑیں۔انہوں نے افسوس جتاتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو دنیا متحد کرنا تھا آج ان کو متحد کرنےکے لئے اجلاس و سمینار منعقد کرنے پڑرہے ہیں۔

اسلامی بنیادوں پر بات کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ بھائی چارہ کریں، ہمیں حق حاصل نہیں ہے کہ تم ہمارے بھائی نہیں ہو، جس طرح ہم سب کا ایک خالق ہے، ایک ماں ، ایک باپ ہے۔بالکل اسی طرح کوئی بھی ذات پات ہو، دھرم ہو،نسل ہویا پھر ملک کی بنیاد پر کسی کو ہم کہہ نہیں سکتے کہ تم ہمار ے بھائی نہیں ہو،اگر کوئی کہتاہے تو یہ بہت شرمناک بات ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ

ہمارے اہل علم کے درمیان انا کو لے کر اختلاف ہے،ایسا نہیں ہے کہ ان میں علم نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق علم آنے کے بعد ہی ان میں آپسی حسد، کم ظرفی، نفرت، انا کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوئے ، وہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتحاد کا مطلب ایک دوسرے میں گم جانے کا نام نہیں ، اپنی شناخت کھونے کا مطلب نہیں ہےبلکہ انسانیت کی بنیاد پر اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متفقہ باتوں پر عمل پیرا ہونا اتحاد ہے۔

موصوف نے اسلامی رواداری کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی دھرم کا ماننے والا کیوں نہ ہووہ ہمار ا دشمن نہیں ہے۔ غیر ضروری طورپر سماج میں شکوک ، شبہات، خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہاہے ایسا نہ کریں اس کے برخلاف ملت میں امید ،نشاط اور اعتماد کی فضا قائم کریں۔اسی طرح ہم صرف اپنے حقوق کے لئے جدوجہد نہ کریں بلکہ ظلم، استحصال،انصاف سےمحروم کئی لوگ ہمارے پاس پڑوس میں ہیں، اس پر بھی گفتگوکریں ۔ تمام انسانوں ، کسانوں، غریبوں ، مظلوموں ، خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کریں۔ ہم ایک قوم یا نسل نہیں ہیں ہم ایک نظریاتی ملت ہیں،تعمیر ی و مثبت فکر کے ساتھ ملک کو بتائیں کہ ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ محبت و پیار کے ساتھ بااعتماد ہوکر اپنی بات رکھیں، ہمارا مجموعی منشا سب کے لئے انصاف ہونا چاہئے۔

آر کے نورنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت کی بقا و حفاظت کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ محبت ، عاجزی دشمنی کو دوستی میں بدلتی ہے۔ اچھے اور مفید کاموں میں ہرایک کے ساتھ تعاون کرو۔ اتحاد ایک طاقت ہے تو انتشار و افتراق عذاب ہے۔ اللہ کے نبی ﷺنے کہاکہ جو ہماری نماز پڑھے ، قبلہ کی طرف متوجہ ہو، ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے۔ اختلاف کے آداب کو ملحوظ رکھیں۔ انفرادی نمائندگی نہ کریں بلکہ اجتماعی فیصلوں کا احترام کریں۔

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کےسابق ریاستی صدر کے ایم شریف نے کہاکہ دنیا غاصبوں،جابر وں کے شکنجے میں ہے ہمارا ملک بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ملک کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ملک میں مسلمانوں کو ہر میدان سے بے دخل کرنے کی منصوبہ بند سازشیں کی جارہی ہیں۔ سماجی ، معاشی ، سیاسی میدانوں میں مسلمانوں کو دبایا جارہاہے۔ قانونی امداد سے محروم رکھا جارہاہے۔ ہندوتوا کے ذریعے مسلمانوں،دلتوں ، ہندووں، مظلوم طبقات کے درمیان فاصلہ پیدا کیا جارہاہے۔ ان سنگین حالات میں ہمیں متحد ہو کر آگے بڑھناہے۔ اتحاد ہی ایمان ہے تو انتشار کفر ہے۔ حضرت سید زین العابدین سجادہ نشین و دیوان حضرت خواجہ معین الدین چشتی درگاہ اجمیر :اللہ کے نبی ﷺاور اولیائے کرام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو اتحاد قائم ہوگا۔ وہابی ہو کہ بریلوی ، ہرایک کلمہ گو ہے، اس سے اپنے اختلافات کو دور کیا جاسکتاہے۔آخر میں کے صلاح الدین عبداللہ نے اجلاس میں قراردادوں کو پیش کرتے ہوئے ملت کے مختلف اکابرین، علماء اور عوام سے منظوری لی۔ اجلاس میں مختلف مقامات سے آئے ہزاروں مرد وخواتین رات تک شریک رہے، ان کی تواضع کا بھی بہتر انتظام کیا گیا تھا۔ ڈائس پر مختلف مقامات کے علماء، اکابرین، ذمہ داران وغیرہ موجود تھے۔


Share: